سداپور6؍فروری (ایس او نیوز) برسہابرس سے محکمہ جنگلات کی زمین پراتی کرم کے ذریعے مکانات بناکر رہنے والوں کی زمین کو قانونی حیثیت دینے کی جو اسکیم حکومت نے بنائی ہے اس کے تحت دی گئی درخواستیں سب ڈیویژن سطح پر بڑی تعداد میں مسترد کردی گئی ہیں۔ اس کے خلاف سداپور تعلقہ میں بند مناتے ہوئے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔
اتی کرم کرنے والوں کی طرف سے دی گئی درخواستوں کو نامنظور کرنے پر بندمنانے کی جو اپیل کی گئی تھی ، اس پر مثبت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تقریباً تمام دکانیں صبح ہی سے بند رکھی گئیں۔احتجاجی مظاہرین نے تمّپا نائک سرکل، رام کرشنا ہیگڈے سرکل کے علاوہ سداپور کی اہم سڑکوں پر دھرنے دئے اور سرسی اسسٹنٹ کمشنر موقع پر پہنچنے کر ان کی یادداشت قبول کرنے کا مطالبہ اور اے سی کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔ بعد میں انہوں نے سداپور کے تحصیلدارکے دفتر کا گھیراؤ کیا۔سرسی روڈ پر گاڑیوں کے ٹائر جلاتے ہوئے موٹر گاڑیوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ پیدا کردی گئی۔مختلف سڑکوں پر تقریباً تین گھنٹوں تک ٹریفک میں خلل ڈالا گیا۔
احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کسان لیڈر ویر بھدرا نے کہا کہ ہم نے اپنی زندگی گزربسر کرنے کے لئے جنگلاتی زمین پر کھیتی باڑی کی ہے اور رہنے کے لئے مکانات بنائے ہیں۔ ہم نے جنگلوں کو تباہ نہیں کیا ہے۔ ہم کسانوں کو قانون کے مطابق زمین منظورکرتے ہوئے ہمارے حقوق دئے جائیں۔ سب ڈیویژن کمیٹی میں جن درخواستوں کو مسترد کردیا گیا ہے، ان کا ازسرِ نو جائزہ لینا چاہیے۔ اگر پندرہ دنوں کے اندر یہ کام نہیں ہواتو پھر اس کے خلاف بہت ہی زبردست احتجاج کیا جائے گا۔
مظاہرین نے تحصیلدارپٹاراج گوڈا کی معرفت ریاستی گورنر کو میمورنڈم پیش کیا۔ میمورنڈم قبول کرنے کے بعد تحصیلدار کے علاوہ اسے سی ایف عبدالعزیز نے مظاہرین کو تیقن دیا کہ اس معاملے کو اعلیٰ افسران کے علم میں لائیں گے، اور ان کے جائز مطالبا ت پورے کروانے کی کوشش کریں گے۔
احتجاجی مظاہرے کے پیش نظرڈی وائی ایس پی گوپال کرشنا ٹی نائک کی قیادت میں پولیس نے حفاظتی بندوبست سخت کردیاتھا۔ اس دوران سڑک جام کرنے کے دوران سداپور پی ایس آئی نتیا نند گوڈا اور مظاہرین کے درمیان زبانی تکرار بھی ہوئی جس کے پس منظر میں احتجاجیوں کے لیڈر ویر بھدرا نے اپنے خطاب کے دوران پی ایس آئی کو اپنا رویہ درست کرنے اور مظاہرین کے ساتھ اخلاق کے ساتھ پیش آنے کی تنبیہ کی۔